ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت
تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کا سفر شروع دن سے ہی رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک عوامی رائے کو جس طرح عزت اور مقام ملنا چاہیے تھا، وہ کبھی پوری طرح نہیں مل سکا۔ ووٹ کو امانت کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس امانت کے ساتھ بارہا ایسا سلوک ہوا کہ عام آدمی کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا چلا گیا۔ ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات، نتائج پر تحفظات اور عوامی مینڈیٹ چرائے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات نے تو ان خدشات کو انتہا پر پہنچا دیا۔ عوام نے جن امیدواروں کو منتخب کیا تھا، رات کی تاریکی میں نتائج تبدیل کر کے فارم سینتالیس کے ذریعے ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔ یہ محض ایک الزام نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا وہ دکھ ہے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے ووٹ کی بے حرمتی ہوتے دیکھی۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہمارا انتخابی نظام اتنا کمزور اور مشکوک کیوں ہے کہ ہر بار نتائج پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اس کی جڑیں صرف انتظامی بدعنوانی میں نہیں بلکہ خود نظام کے ڈھانچے میں بھی پیوست ہیں۔ ذیل میں ہم ان بنیادی مسائل کا جائزہ لیں گے جو ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور ان اصلاحات پر بات کریں گے جو اس نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
کم ٹرن آؤٹ کا المیہ
پاکستان میں انتخابی شرکت کی شرح کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ عمومی طور پر یہ شرح تیس سے چالیس فیصد کے درمیان رہتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی حلقے میں ساٹھ سے ستر فیصد اہل ووٹرز الیکشن کے دن گھروں پر ہی رہتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی بےزاری، امیدواروں پر عدم اعتماد، نتائج میں ہیر پھیر کا خدشہ، سیکیورٹی کے مسائل، گرمی یا موسم کی شدت، اور ووٹر لسٹوں میں غلطیاں شامل ہیں۔ جب اکثریت ووٹ ڈالنے ہی نہیں آتی تو باقی رہ جانے والی اقلیت کا فیصلہ پورے حلقے پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے عین منافی ہے۔
جماعتوں کی بھرمار اور ووٹ کی تقسیم
دوسرا بڑا مسئلہ سیاسی جماعتوں کی بے تحاشا تعداد ہے۔ ہر سال درجنوں نئی جماعتیں وجود میں آتی ہیں، اور ہر حلقے میں دس، بارہ یا پندرہ تک امیدوار میدان میں اترتے ہیں۔ فرض کریں کسی حلقے میں دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ساٹھ فیصد لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آتے، تو باقی صرف چار لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اب یہ چار لاکھ ووٹ پندرہ امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جیتنے والا امیدوار زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد ووٹ لے کر ہی کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اسی فیصد لوگ اس نمائندے کے مخالف تھے، مگر پھر بھی وہ ان پر حکمرانی کرنے کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کی خامیاں
پاکستان میں رائج انتخابی طریقہ کار، جسے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کہا جاتا ہے، اسی مسئلے کی جڑ ہے۔ اس نظام کے تحت جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اس کے حاصل کردہ ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فیصد سے کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ دنیا کے کئی ممالک اس نظام کی خامیوں کو محسوس کرتے ہوئے متبادل طریقے اپنا چکے ہیں، جیسے کہ رن آف الیکشن یا متناسب نمائندگی کا نظام، جہاں کامیابی کے لیے ایک مخصوص فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں اگر کوئی امیدوار مطلوبہ فیصد ووٹ حاصل نہ کر پائے تو سرفہرست دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے، تاکہ حتمی فاتح واقعی اکثریت کی حمایت رکھتا ہو۔
جیت کے تناسب میں اصلاح کا مطالبہ
اسی تناظر میں یہ تجویز نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کامیابی کے لیے کم از کم ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ اصول نافذ ہو جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے تو غیر سنجیدہ اور محض ووٹ تقسیم کرنے کے لیے میدان میں اترنے والی سینکڑوں چھوٹی جماعتیں خود بخود منظر سے ہٹ جائیں گی، کیونکہ کوئی بھی امیدوار اکیلے اتنی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں مجبور ہوں گی کہ وہ آپس میں اتحاد بنائیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور عوام کے سامنے واضح اور قابل عمل ایجنڈا پیش کریں۔ اس سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملے گی اور حکومت سازی زیادہ نمائندگی پر مبنی ہوگی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ واقعی اکثریت کی حمایت سے کامیاب ہوگا، جس سے اس کی حکومت کو اخلاقی اور سیاسی جواز حاصل ہوگا اور عوام میں یہ تاثر پیدا نہیں ہوگا کہ ایک اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی مسلط کر دی ہے۔
ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک تصدیق کی اہمیت
دوسرا مطالبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا کسی ایسے تصدیقی نظام کے استعمال سے متعلق ہے جو جعلی اور بوگس ووٹنگ کا سدباب کر سکے۔ روایتی کاغذی طریقہ کار میں انسانی مداخلت کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس سے گنتی میں تاخیر، غلطیاں اور جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں تو ہر ووٹر کی شناخت یقینی بنائی جا سکتی ہے، ایک شخص ایک سے زیادہ بار ووٹ نہیں ڈال سکے گا، اور نتائج فوری اور شفاف طریقے سے سامنے آ سکیں گے۔ اگرچہ الیکٹرانک نظام کو بھی اپنے تکنیکی چیلنجز اور سائبر تحفظ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر مناسب حفاظتی اقدامات اور شفاف آڈٹ کے ذریعے ان خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے انتخابی عمل کی ساکھ بحال کر سکتا ہے۔
منتخب نمائندوں کے لیے تعلیمی و اہلیتی معیار کیا ہونا چاہیے
تیسرا اور نہایت اہم مطالبہ یہ ہے کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدواروں کی اہلیت کا ایک واضح معیار مقرر کیا جائے۔ اس وقت کوئی بھی شخص، چاہے اس کی تعلیمی قابلیت کچھ بھی ہو، الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر ایسے افراد قانون سازی کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قانون سازی یا حکمرانی کے پیچیدہ امور کا خاطر خواہ ادراک نہیں ہوتا۔ اگر پی ایچ ڈی، ایم فل، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد کو آگے آنے کا موقع ملے تو قوم کو ایسی قیادت میسر آ سکتی ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہو اور بہتر پالیسی سازی کر سکے۔ یہ تجویز ان جمہوریتوں کے تجربے سے بھی ہم آہنگ ہے جہاں امیدواروں کے لیے کم از کم تعلیمی یا تجرباتی معیار مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ایوان میں سنجیدہ اور باصلاحیت افراد پہنچ سکیں۔
پاکستان کا انتخابی نظام آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس میں اصلاحات کی ضرورت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کم ٹرن آؤٹ، جماعتوں کی بھرمار، ووٹ کی تقسیم، شفافیت کا فقدان اور نااہل امیدواروں کی بھرمار، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں عوام کی حقیقی رائے کبھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتی۔ کامیابی کے لیے واضح اکثریتی تناسب مقرر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانا، اور امیدواروں کے لیے اہلیتی معیار طے کرنا، یہ تینوں اقدامات مل کر پاکستان کے جمہوری نظام کو زیادہ مضبوط، شفاف اور نمائندہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم اس بحث کے دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ ماہرین اور سیاسی حلقے ان تجاویز پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ لازمی قرار دینا ایک کثیر الجماعتی اور متنوع معاشرے میں عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بار بار انتخابات یا رن آف مقابلوں کی ضرورت پیش آئے گی، جو کہ مالی اور انتظامی طور پر بوجھ بن سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی اور نئی جماعتوں کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی تنوع اور نئی آوازوں کا سامنے آنا جمہوریت کی صحت کے لیے ضروری ہے، اور بہت سخت شرائط ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے بھی کچھ حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی تک عوامی رسائی، خواندگی کی شرح، اور سائبر تحفظ کے مسائل کو پہلے مکمل طور پر حل کیے بغیر ایسا نظام نافذ کرنا نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح امیدواروں کے لیے تعلیمی معیار مقرر کرنے کی تجویز پر بھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ سیاسی تجربہ اور عوامی رابطہ بھی قیادت کی اہلیت کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنی کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری، اور محض ڈگری کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ کرنا کچھ باصلاحیت اور عوامی حمایت رکھنے والے افراد کو سیاسی عمل سے باہر کر سکتا ہے۔
بہرحال، ان تمام تحفظات کے باوجود یہ بات طے ہے کہ موجودہ نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے، تاکہ ووٹ کی حرمت بحال ہو اور عوام کا اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔
www.alsadatne2spm.com






